جلد کی جانچ
ہر رات ٹانگ اتار کر سرخی، چھالے یا رگڑ دیکھیں؛ صبح تک سرخی نہ جائے تو کال کریں۔
بچوں کے لیے
بچے تیزی سے بڑھتے ہیں، خوب کھیلتے ہیں اور جلد سیکھتے ہیں، اس لیے بچے کی ٹانگ ایک فٹنگ کے لیے نہیں، بڑھوتری کو سامنے رکھ کر بنائی جاتی ہے۔ ہم ایسی ٹانگ بناتے ہیں جسے لمبا اور ایڈجسٹ کیا جا سکے، اور ساکٹ چھوٹا ہوتے ہی بدل دیتے ہیں۔
فرق
مختصر جواب
بچے کی ٹانگ میں وہی حصے ہوتے ہیں جو بڑوں کی ٹانگ میں: ساکٹ، لائنر یا موزے، پائلن اور پاؤں، اور گھٹنے سے اوپر کی سطح پر گھٹنا بھی۔ فرق بڑھوتری کا ہے۔
ساکٹ میں بڑھنے کی گنجائش رکھی جاتی ہے، پائلن لمبا کیا جا سکتا ہے اور ہر چند ماہ ٹانگ کی جانچ ہوتی ہے تاکہ ٹانگ کبھی بچے کو پیچھے نہ رکھے۔

والدین کے لیے
ہر رات ٹانگ اتار کر سرخی، چھالے یا رگڑ دیکھیں؛ صبح تک سرخی نہ جائے تو کال کریں۔
ساکٹ تنگ لگے، بچہ لنگڑائے یا ٹانگ چھوٹی لگے تو ساکٹ چھوٹا ہو رہا ہے۔
کھیلنے دیں؛ ٹانگ اسی کے لیے بنی ہے۔ استاد کو بتا دیں کہ ضرورت پر بچہ آرام کر سکے۔
ہر تین سے چھ ماہ جانچ؛ تیز بڑھوتری میں جلدی۔ شہر سے باہر ہوں تو تصویر بھیجیں۔
کب انتظار بہتر ہے
اگر زخم کھلا ہو، کوئی چھالا ہو جس کا علاج چاہیے، یا ہڈی کٹے ہوئے سرے سے باہر کی طرف بڑھ رہی ہو تو پہلے ڈاکٹر یا سرجن کو دکھانا ضروری ہے۔ چھوٹا ہو چکا ساکٹ پہنتے رہنا جلد اور چال دونوں کو نقصان دیتا ہے، اس لیے اسے جلد بدلوائیں۔
سوال و جواب
پیدائشی طور پر ٹانگ کی کمی ہو تو اکثر اس وقت جب بچہ سہارا لے کر کھڑا ہونے لگے۔ حادثے یا آپریشن کے بعد زخم بھرنے پر۔
ساکٹ عموماً سال میں ایک بار بدلنا پڑتا ہے، تیزی سے بڑھنے کے دنوں میں جلدی بھی۔ پائلن کو لمبا کیا جا سکتا ہے، اس لیے ہر بار پوری ٹانگ نہیں بدلتی۔
جی ہاں۔ بچے بہت جلد سیکھتے ہیں؛ ٹانگ اسی طرح بنتی ہے کہ دوڑنے، کھیلنے اور اسکول جانے میں رکاوٹ نہ بنے۔
بچے کی پہلی ٹانگ 45,000 روپے سے شروع ہوتی ہے؛ امپورٹڈ بچوں کے پاؤں اور گھٹنوں کے ساتھ تقریباً 300,000 روپے تک۔
واٹس ایپ
یہ خانے بھریں تو واٹس ایپ آپ کا پیغام تیار کر کے کھول دے گا۔ ہو سکے تو چیٹ میں کٹی ہوئی ٹانگ کی تصویر بھی لگا دیں؛ تصویر سے کسی بھی تفصیل سے زیادہ پتہ چلتا ہے۔
بات کرنا چاہتے ہیں؟ کال کریں +92 337 841 4002 کسی بھی وقت۔